Science

6/recent/ticker-posts

ارسطوئے ثانی, ابو نصر محمد فارابی

یہ ابو الحسن علی سیف الدولہ حمدانی کا دربار ہے۔ یہ شاہ حلب سیف الدولہ کا دربار ہے اور دربار میں ترکی وضع رکھنے والا وہ بوڑھا معمولی قبا پہنے اور کھچڑی بالوں پر ٹوپی رکھے عجیب زاہدانہ شان کے ساتھ آیا اور ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ سیف الدولہ کچھ دیر اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر اس سے مخاطب ہوا اور کہا کہ’’بیٹھ جائو۔‘‘ ’’کہاں؟ جہاں میں ہوں یا جہاں تم ہو۔‘‘ ’’جہاں تم ہو‘‘ سیف الدولہ نے کہا۔ پس وہ پست قد بوڑھا اس دربار میں جہاں وزراء اور غلاموں کے ساتھ ساتھ علماء فضلاء اور حکماء کا بھی ہجوم تھا، صف کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور اس نے سیف الدولہ کو اس کی مسند سے پرے ہٹانے کی کوشش کی۔ شاید وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ پھر میرا اصل مقام تو یہی ہے۔ یہ دلچسپ روایت مولانا عبدالسلام ندوی نے ابن خلکان کے حوالے سے اپنی کتاب’’حکمائے اسلام‘‘ میں حکمائے قدیم کی سی شان رکھنے والے اس فارابی کے باب میں نقل کی ہے، جسے تاریخ ارسطوئے ثانی اور معلم ثانی کے نام سے بھی پہچانتی ہے۔ 

پیشہ سپہ گری سے تعلق رکھنے والے ایرانی النسل سپہ سالار محمد بن طرخان کے گھر جنم لینے والا ابو نصر محمد بن محمد اوزلخ بن طرخان ترکستان کے شہر فاراب کے قلعہ بند قصبے وسیج میں پیدا ہوا، اسی لیے ترک کہلایا۔ تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں، لیکن منک (Munk) کا خیال ہے کہ اس کا خاندان ماوراء النہر کے شہر اطرار میں قیام پذیر تھا۔ اس کی تاریخ پیدائش حتمی طور پر معلوم نہیں ، لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ تخمیناً اسی سال عمر پانے والے فارابی کی تاریخ پیدائش 870ء ہے۔ فارابی نے آبائی پیشہ سپہ گری کو خیر باد کہا اور فکر و فلسفہ کے میدان کو اپنے لیے چنا۔ اس کا خیال ہے کہ جب سچائی کی تلاش ہی فلسفے کا وظیفہ واحد ہے، تو فلسفے کے تمام مکاتیب فکر کو ہم آہنگ ہونا چاہیے چہ جائیکہ ان کے درمیان چند ظاہری اختلافات نظر آتے ہیں۔

اس کا خیال ہے کہ یہ تمام اختلافات سطحی ہیں اور دراصل ان تمام مکاتب فکر میں مطابقت پائی جاتی ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ مختلف فلاسفہ کے معاملے میں جو بے جا طرف داری برتی گئی ہے، تو یہ دراصل ان کے انتہا پسند پیرو کاروں کا کیا دھرا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ مذہبی صداقت اور فلسفیانہ صداقت بھی معروضی طور پر ایک ہیں۔ اس کے اس خیال نے فلسفہ اور اسلامی عقائد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ فارابی نے قریباً اسی سال کی عمر پائی اور دسمبر 950ء میں اس دار فانی سے کوچ کیا۔ مولانا عبدالسلام ندوی نے شہزوری کی کتاب ’’تاریخ الحکماء‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ فارابی دمشق سے عسقلان کو جا رہا تھا کہ ڈاکوئوں نے راستے میں اس کو گھیر لیا۔ اس نے ان کا مقابلہ کیا اور ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ امرائے شام پر اس واقعے کا شدید اثر ہوا اور انہوں نے ڈاکوئوں کو گرفتار کرکے فارابی کی قبر پر پھانسی دے دی۔ 

محمد کاظم اس روایت کو کسی طرح قابل اعتبار نہیں سمجھتے، ان کا خیال ہے کہ اس طرح کے انجام سے متنبی دو چار ہوا تھا، فارابی نہیں۔ بہرحال اتنا ضرور ہے کہ اس کی محبت اور عقیدت میں مبتلا سیف الدولہ نے اس کی موت پر صوفیانہ خرقہ پہنا اور اپنے مصاحبین کے ساتھ آ کر اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ فارابی کہا کرتا تھا: ’’تصوف سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ اس کی غایت خدا سے رابطہ قائم کرنا ہے، جو فلسفہ انسان کو خدا تک نہیں پہنچا سکتا ،وہ ایک بے سود فلسفہ ہے۔‘‘ 

(ظفر سپل کی کتاب’’مسلم فلسفے کا تاریخی ارتقاء:الکندی سے ابنِ خلدون تک‘‘ سے مقتبس) -

Post a Comment

0 Comments