Header Ads

Breaking News
recent

الغ بیگ کی رصد گاہیں

سمرقند میں الغ بیگ کی سولہویں صدی میں تعمیر کردہ تحقیقاتی رصد گاہ جو آسمانوں کی تسخیر کی بنیادیں فراہم کرتی ہے‘ اس حقیقت کی غماز ہے کہ تسخیر کائنات کیلئے دین کے علم کے ساتھ سائنسی علوم بھی ضروری ہیں۔ الغ بیگ کی رصدگاہ کی تفصیل سے پہلے چوک ریگستان کا ذکر ہو جائے۔ سمرقند کے حوالے سے ریگستان چوک کا نام بار بار آتا ہے۔ کہاں سمرقند اور کہاں ریگستان چوک۔ اس حوالے سے ذہن میں کوئی تصویر بھی نہیں ابھرتی۔ اول تو ریگستان میں سمت دریافت کرنا ہی مشکل ہے‘ پھر ریگستان میں چوک کیسا ہو گا۔ شرف مرزا اس بارے میں پہلے سے کچھ بتانے سے قصداً گریز کر رہے تھے۔

وہ یقینا ہمارے تجسس کو قائم رکھنا چاہتے تھے کہ ہم خود دیکھیں کہ یہ ہے کیا؟ سمرقند کے وسط میں یہ تاریخی چوک ہے‘ جس میں تین انتہائی خوبصورت‘ عالیشان اور پرشکوہ مدارس کی عمارتیں ہیں۔ چودھویں صدی میں یہ دور تیموری میں ایشیا کا سب سے بڑا بازار تھا‘ جہاں دنیا بھر کے تجارتی قافلے آتے تھے۔ اس کے چاروں طرف صناعوں اور کاریگروں کی دکانیں تھیں۔ پندرھویں صدی میں تیمور کے پوتے الغ بیگ نے اس چوک میں سب سے پہلا مدرسہ قائم کیا تھا۔ وہ اپنے زمانے کا مانا ہوا فلسفی‘ ریاضی دان‘ سائنس دان اور ماہر نجوم حکمران تھا اور خود اپنے مدرسے کا پہلا استاد تھا۔ مدرسے‘ ڈیوڑھی اور صحن کے گرد برآمدوں اور چھوٹے چھوٹے کمروں میں تحائف کی دکانیں ہیں۔
روغنی مٹی کے مجسمے جو یہاں کا تہذیبی عکس لئے ہوئے ہیں‘ سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ غرض قدیم سے لے کر جدید تزئین و آرائش کی مصنوعات دستیاب ہیں اور یہ سب ہاتھوں کی کاریگری ہے۔ جو وسطی ایشیا میں مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ تھی‘ روسیوں نے ان کی خرید و فروخت کے ساتھ ان کے بنانے پر بھی پابندی لگا دی تھی تا کہ لوگ صرف ان کے مقاصد کی تکمیل کیلئے پیداواری عمل میں مصروف رہیں۔ لوگوں نے اپنا قیمتی‘ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ جو تباہ ہونے سے بچ گیا تھا‘ تہہ خانوں میں چھپا دیا۔ آج وہ سارے قدیم شاہکار اور دستکاری کے نادر اور نایاب نمونے نکال نکال کر عجائب گھروں میں سجا دئیے گئے ہیں۔ سمرقند کے مضافات میں افراسیاب ، الغ بیگ کی تعمیر کردہ رصد گاہ ہے۔ رصدگاہ کی اونچائی 33 میٹر ہے۔

ستاروں کی حرکات‘ چاند گرہن اور فلکیاتی علوم کی تحقیق کا جو کام بھی الغ بیگ نے کیا‘ بعد میں آنے والے ریاضی دان اور ماہرین فلکیات اسے رد نہ کر سکے۔ الغ بیگ نے عناصر کائنات یعنی آگ‘ ہوا‘ مٹی اور پانی کے بارے میں بہت کام کیا۔ آزادی کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی مدد سے ازبک قوم اپنے مایہ ناز اور قابل فخر آبائو اجداد پر ازبک‘ انگریزی اور روسی زبانوں میں کتابیں شائع کر رہی ہے۔ ان قابل فخر شخصیات میں امیر تیمور‘بابر اور الغ بیگ نمایاں ہیں۔     الغ بیگ کی حاکمیت سمرقند میں چالیس سال قائم رہی۔ اس کے بیٹے پر بھی حاکم بننے کا جنون سوار تھا۔ چند انتہا پسند لوگ الغ بیگ کی سائنسی تحقیق و جستجو‘ اس کے علم و فن اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو غیر اسلامی سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بیٹے کو باپ کے خلاف اس قدر بھڑکایا کہ اس نے اپنے باپ کے خون سے ہاتھ رنگ لئے‘ مگر صرف چھ ماہ بعد وہ خود بھی قتل ہو گیا۔

الغ بیگ کے شاگرد علی قشمی نے اپنے استاد کے علوم کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ازبکستان میں الغ بیگ کا نام نئی نسل میں بہت مقبول ہے۔ اسی طرح تیمور اور بابر بھی بہت عام نام ہیں۔ جس کے تین چار بیٹے ہوں‘ ان میں سے ایک نام ضرور الغ بیگ‘ بابر یا تیمور ہو گا۔ تاشقند میں زمین دوز ریلوے میٹرو کے دو اسٹیشن امیر تیمور اور الغ بیگ کے نام پر ہیں۔ دونوں سٹیشنز سے باہر نکل کر ان اکابرین کے نام پر شاندار پارک ہیں۔ میٹرو کے الغ بیگ سٹیشن سے اوپر جائیں تو سڑک کے اس پار الغ بیگ پارک کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ اونچے اور گھنے درختوں سے تو پورا شہر ہی بھرا ہوا ہے۔

فریدہ حفیظ


No comments:

Powered by Blogger.