Science

6/recent/ticker-posts

عظیم مسلمان فلسفی اور سائنسدان ابن سینا

آپ کا پورا نام ابوعلی الحسین ابن عبداللہ ابن سینا ہے اور آپ بوعلی سینا اور ابن
سینا کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ سے 450 کے قریب کتابیں منسوب کی جاتی ہیں، جن میں سے صرف 240 کتابیں دست برد زمانہ سے بچ پائیں، ان میں 150 فلسفہ کے موضوع پر ہیں اور 40 طب کے موضوع پر۔ خاص طورپر طب میں ابن سینا کی کتاب ’’القانون‘‘ ڈیڑھ ہزار سے زائد برسوں تک دنیا بھر میں طب کی بنیادی کتاب کے درجے پر فائز اور یورپ اور مختلف ملکوں کی جامعات میں بطور نصاب شامل رہی۔ طب اور فلسفہ کے علاوہ علم فلکیات، جغرافیہ، نفسیات، اسلامی الہیات، منطق، ریاضیات، طبیعات اور شاعری پر بھی آپ نے متعدد مقالے اور کتابیں تحریر کیں۔ ابن سینا کا ظہور اسلامی سلطنت کے سنہری دور میں ہوا جب فارسی، سنسکرت اور لاطینی زبانوں کی کتابوں کا عربی میں تراجم کا عمل جاری تھا۔ ان تراجم نے اسلامی فکر میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کیں۔

انھی تراجم کے باعث اسلامی معاشرے میں فلسفہ، علم الکلام اور فقہ جیسے علوم کو فروغ حاصل ہوا۔ ابن سینا کا شاہکار اس کی کتاب ’’القانون الطب‘‘ ہی مانا جاتا ہے، جو 17ویں صدی تک دنیائے اسلام سمیت یورپ بھر کی جامعات میں طب کی بنیادی کتابوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کتاب میں متعدی بیماریوں سے متعلق پہلی بار نہایت تفصیلی تحقیق شامل کی گئی تھی۔ ان بیماریوں کی علامات، ان کے اسباب اور ان کے علاج کے لیے دوائیں اور دیگر طریقہ ہائے کار کے بیان نے اس کتاب کو غیر معمولی اعتبار اور سند عطا کی۔ اس نے ارسطو کی اس بات سے اتفاق کیا کہ تپ دق ایک متعدی مرض ہے ،جو ہوا کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہوسکتا ہے۔ اس بات پر یورپ میں صدیوں تک بحث و مباحثہ رہا کہ وہ اسے متعدی تسلیم کریں یا نہ کریں۔ اس کے علاوہ ذیابیطس اور فالج جیسے امراض پر بھی ابن سینا نے گراں قدر تحقیقات اس کتاب میں شامل کیں۔ ان امراض کے اسباب و علاج کے ساتھ ’’القانون‘‘ میں دواؤں کی تیاری اور بیماریوں کے لیے ان کے استعمال اور نئی بیماریوں کے علاج کے لیے ان کی آزمائش کے طریقوں پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

ابن سینا نے بخار کی علامات پر بحث کرتے ہوئے جذباتی کیفیات، ذہنی سرگرمی، اخلاقی رویوں اور خوابوں کو ان کی وجوہ میں شامل کیا۔ یہ کتاب پانچ حصوں میں تقسیم ہے، جن میں پہلے دو حصے امراض کی علامات کے بیان اور حفظان صحت کے اصولوں کی وضاحت پر مبنی ہیں جبکہ تیسری اور چوتھے حصے میں بیماریوں کے علاج کے طریقوں پر بحث کی گئی ہے اور پانچواں حصہ دواؤں کی تیاری اور ان کے استعمال کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔ ابن سینا عشق کو بھی ایک جسمانی عارضہ تصور کرتا اور اس کی علامات میں دل کا ڈوبنا، بے خوابی، بھوک کی کمی اور سانس کا بے قابو وغیرہ شامل ہیں۔ وہ اس مرض کا علاج کسی بھی دوسرے مرض کی طرح دواؤں سے کرنے کا حامی تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ یونانی طب کی ارتقا اور فروغ کا سہرا دوسری صدی میں پرگمون کے گیلن کے سر بندھتا ہے ،لیکن اس حوالے سے بنیادی علم کو منظم کرنے کا عمل ابن سینا سے شروع ہوا۔ اس نے اپنی کتاب ’’القانون‘ ‘میں طب یونانی کی ادویات کی تیاری اور استعمال سے متعلق بنیادی معلومات درج کیں، جو آج بھی زیر استعمال ہیں اور پاکستان اور بھارت کے یونانی طب کی تعلیم گاہوں میں یہ کتاب نصاب میں شامل ہے۔

طبیعات میں ابن سینا نے حرکت کا نظریہ پیش کیا ،جس کے مطابق متحرک شے اور حرکت کے ارادے میں فرق کیا گیا ہے۔ ابن سینا کا ماننا ہے کہ حرکت اسی ارادے یا رجحان کا نتیجہ ہوتی ہے، جو حرکت دینے والے سے حرکت کرنے والی شے میں منتقل ہوتا ہے جبکہ خلا میں یہ حرکت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ خارجی قوتیں جیسے ہوا کی مزاحمت اس حرکت کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ ابن سینا نے اپنی کتاب ’’رسالہ فی ابطال احکام النجوم‘‘ میں ارسطو کے اس نظریہ سے اختلاف کیا کہ ستارے اپنی روشنی سورج سے مستعار لیتے ہیں۔ انہوں نے ستاروں کی روشنی کو خود بدیہی قرار دیا۔ جدید سائنس اسی نظریہ کی حامی ہے۔ ابن سینا البتہ سیاروں کی روشنی کو بھی خود بدیہی قرار دیتے تھے۔ وہ الکیمیا کے ماہرین سے بھی اختلاف رکھتے تھے کہ یہ سوچنا درست نہیں کہ کوئی جوہر ایسا ہوسکتا ہے، جو کم تر دھاتوں کو اعلی دھاتوں میں تبدیل کردے۔ یوں وہ الکیمیا کو ایک سعی لاحاصل قرار دیتے تھے۔ 

ابن سینا شاعر بھی تھے۔ انہوں نے عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ ابن سینا کے شاگرد جزجانی نے ان کی خود نوشت سوانح حیات لکھی، جو ان کی زندگی کے بارے میں معلومات کا سب سے معتبر ذریعہ مانی جاتی ہے۔ ابن سینا موجودہ دور کے ازبکستان میں بخارا کے نزدیک ایک گاؤں میں 980 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبداللہ کا شمار اسماعیلی فرقے کے نہایت قابل احترام افراد میں ہوتا تھا۔ وہ گورنر کے عہدے پر فائز تھا ۔ انہوں نے ابن سینا کو اس دور کے اعلی اساتذہ سے تعلیم دلائی، جنہوں نے اس فطین بچے کے ذہن و قلب کو جلا بخشی اور انہیں آزادانہ طورپر اپنے افکار کی تعمیر و ترقی میں معاونت کی۔ اپنی وفات سے پہلے انہوں نے غلاموں کو آزاد کردیا اور اپنی جائیداد کا بیشتر حصہ غریبوں کی فلاح کے وقف کردیا۔ اٹھاون برس کی عمر میں رمضان کے مہینے میں وہ ہمدان میں فوت ہوئے اور اسی شہر میں مدفون ہوئے۔ 

محمدعاصم بٹ

(کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)

Post a Comment

0 Comments